Friday, February 7, 2020

اگر چمگادڑ سے کورونا وائرس نہیں پھیلا تو آخرکار وہ جانور ہے کون؟ سائنسدانوں نے گتھی سلجھا دی

سائنسدانوں نے آخرکار کورونا وائرس پھیلانے والے جانور کا پتہ چلالیا ہے
سائنسدانوں نے آخرکار کورونا وائرس پھیلانے والے جانور کا پتہ چلالیا۔ گوانگ ژو سے تعلق رکھنے والے چینی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ چیونٹیاں کھانے والا ممالیہ جانور ”پنگولین“ دراصل کورونا وائرس پھیلانے کا ذمہ دار ہے۔

سائنسی جریدے نیچر، مغربی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک جنیاتی تجزیئے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار پینگولین ہی ہے، اس حوالے سے کی جانے والی تحقیقات آخری مراحل میں ہیں اور جلد مکمل ہوجائیں گی۔

یونیورسٹی آف سڈنی سے کے وائرولوجسٹ ایڈورڈ ہالمز کہتے ہیں کہ یہ انتہائی اہم اور دلچسپ جائزہ ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ پینگولین نے اس خطرناک وائرس کا اٹھایا ہوا ہے تاہم ہمیں مزید ڈیٹا کا بھی انتظار کرنا ہوگا۔

جنوبی چین کی ایگری کلچرل یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے ایک ہزار سے زائد نمونوں کا معائنہ کیا جن سے حاصل ہونے والے جینوم ممالیہ جانور پینگولین میں 99 فیصد تک پایا گیا ہے جس کی بنیاد پر یہ کہاجا سکتا ہے کہ کورونا وائرس کی ابتدا پینگولین سے ہی ہوئی۔

قبل ازیں یہ خیال کیا جارہا تھا کہ کورونا وائرس چمگادڑ سے انسانوں میں پھیلے تاہم تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی ابتدا پینگولین سے ہی ہوئی ہے، البتہ یہ ممکن ہے کہ پینگولین سے وائرس چمگادڑ میں منتقل ہوا ہو اور پھر چمگادڑ سے انسانوں تک پہنچا ہو۔

مزید پڑھیں: چین کا کرونا وائرس کو روکنے کیلئے 20 ہزار لوگوں کے قتل کا منصوبہ

یاد رہے کہ اس وائرس سے اب تک صرف چین میں 700 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور 31 ہزار سے زائد مریض متاثر ہیں جب کہ چین کے علاوہ دو درجن سے زائد دیگر ممالک میں بھی اس وائرس سے 200 سے زائد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

سائنس دان ہلاکت خیز کورونا وائرس تک تو پہنچ گئے ہیں لیکن تاحال اس بیماری کا علاج ڈھونڈنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں جس کے لیے کئی تحقیقی ٹیمیں شبانہ روز محنت میں مصروف ہیں۔ واضح رہے کہ پینگولین کو چین میں ادویات بنانے کیلئے بھی استعمال کیاجاتا ہے۔

 



from سچ ٹی وی اردو - تازہ ترین خبریں https://ift.tt/2tEsybc

Related Posts:

0 comments:

Popular Posts Khyber Times