Friday, February 7, 2020

خیبر پختونخوا کی جامعات میں گزشتہ 2 سال میں بڑی بے قاعدگیوں کا انکشاف

خیبر پختون خوا کی جامعات میں مالی بے قاعدگی کا انکشاف
خیبر پختون خوا کی جامعات میں 2014 سے 2016 کے دوران 4 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے قاعدگی کا انکشاف ہوا ہے، جس پر گورنر کے پی نے نوٹس لے لیا ہے۔

کے پی کی یونی ورسٹیز میں مالی بے قاعدگیوں سے متعلق دستاویزات سامنے آ گئی ہیں، جن میں انکشاف کیا گیا ہے کہ باچا خان یونیورسٹی چار سدہ نے 407 کنال سرکاری اراضی لیز پر دی تھی، تاہم یونی ورسٹی 18 لاکھ 90 ہزار رقم کی وصولی بھول گئی۔

دستاویزات کے مطابق پشاور یونی ورسٹی کے لیے 1 کروڑ 13 لاکھ ادا کیے گئے تھے لیکن اس کی ریکوری نہیں کی گئی، جب کہ صوابی یونی ورسٹی نے 13 لاکھ 89 ہزار کی رقم مس الاؤنس کی مد میں اضافی لی۔

کرپشن کی اس کہانی میں ہری پور یونی ورسٹی سب سے آگے رہی، یونی ورسٹی میں رہایشی ملازمین میں کنوئنس الاؤنس کی مد میں 21 لاکھ روپے تقسیم کیے گئے، ایک سال سے چھٹیوں کے باوجود ڈپٹی پروسٹ نے تنخواہ کی مد میں 13 لاکھ وصول کیے، جب کہ سرکاری گھر رکھنے کے باوجود ملازمین کو رہایش کی مد میں 20 لاکھ 21 ہزار روپے ادا کیے گئے۔

یونی ورسٹی کے لیے مہنگا آئی ٹی سامان خرید کر بھی خزانے کو 25 لاکھ روپے کا ٹیکا لگایا گیا، لیکن حیران کن طور پر کسی یونی ورسٹی انتظامیہ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

ادھر گورنر خیبر پختون خوا نے جامعات میں مالی بے قاعدگیوں سے متعلق خبر کا نوٹس لے لیا ہے، گورنر نے اس سلسلے میں محکمہ ہائر ایجوکیشن سے رپورٹ طلب کر لی، ان کا کہنا تھا کہ یونی ورسٹیوں میں مالی بے قاعدگیاں ناقابل برداشت ہیں، فنانشل ڈسپلن پر کسی صورت سمجھوتا نہیں کر سکتے۔ 



from سچ ٹی وی اردو - تازہ ترین خبریں https://ift.tt/2OCgMW9

Related Posts:

0 comments:

Popular Posts Khyber Times