
انہوں نے لکھا کہ جناب! یہ بھی آٹھ سال پرانی ویڈیو ہے پانی سے گاڑی نہیں چلتی ہائیڈروجن سے چلتی ہے اور پانی میں آکسیجن اور ہائیڈروجن علیحدہ کرنا بہت مہنگا اور پیچیدہ عمل ہے۔
واقعات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپر حامد میرنے گاڑی کی ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’چند سال پہلے آغا وقار نامی ایک پاکستانی نے پانی سے گاڑی چلائی اور میں نے اس گاڑی پر کچھ سائنس دانوں میں بحث کرائی تو آغا وقار کو فراڈیا قرار دیا گیا گالیاں دی گئیں اب ایسی ہی گاڑی جاپان میں چل رہی ہے اور گالیاں دینے والوں کا کہنا کہ یہ ایک عظیم ایجادہے اسے کہتے ہیں احساس کمتری‘۔
حامد میر کی اس ٹوئیٹ پر فواد چوہدری نے لکھا کہ ’’جناب! یہ بھی آٹھ سال پرانی ویڈیو ہے پانی سے گاڑی نہیں چلتی ہائیڈروجن سے چلتی ہے اور پانی میں آکسیجن اور ہائیڈروجن علیحدہ کرنا بہت مہنگا اور پیچیدہ عمل ہے ، اب معاملہ بجلی سے گاڑی چلانے کا آگیا ہے کیونکہ بیٹری ریسرچ بہت آگے چلی گئی ہے‘‘۔
فواد چوہدری کی اس رپورٹ پر ’فواد چوہدری صاحب لگاتا ہے اپ نے سائنس پڑھا نہیں، اس کو میں نے خود گھر میں تجربہ کیا ہے، اس پر 5000ہزار سے بھی کم خرچہ آتا ہے، اس میں صرف سٹیل کے پلیٹ لگتے ہے اور بیٹری کے چارج‘.
عادل عمران نے لکھا کہ ’اور منسٹر ٹیکنالوجی اینکروں کی طرح تنقید کر رہا ہے۔ آپ کا کام تنقید نہیں کچھ کر کے دکھانا ہے۔۔۔گاڑی ہائیڈروجن گیس پانی سے حاصل کر کے ہی چل رہی ہے‘‘۔
علی جاوید نے لکھا کہ ’’محترم آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ مستقبل ہائڈروجن گاڑیوں کا ہے کیونکہ تیل اور بجلی تو ختم یا مہنگی ہو سکتی ہیں مگر ہئڈروجن سے زندگی ہے جو رہتی دنیا تک رہے گی مستقبل میں میں ہائڈروجن کی علیدگی کا عمل بھی سستا اور آسان ہو جائے گا‘‘۔
from سچ ٹی وی اردو - تازہ ترین خبریں https://ift.tt/37AH6a5
0 comments: