
شاہی حکم نامے میں شہزادہ فہد بن ترکی بن عبد العزیز آل سعود کو مشترکہ افواج کے کمانڈر کے عہدے سے برخاست کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے بیٹے شہزادہ عبدالعزیز بن فہد بن ترکئی کو بھی الجوف کے نائب گورنر کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔
سعودی روزنامہ عرب نیوز کے مطابق شہزادہ فہد مشترکہ افواج کے کمانڈر بننے سے قبل رائل سعودی فورسز، جو پیراٹروپرز اور اسپیشل فورسز کا ایک یونٹ ہے، کے کمانڈر تھے جبکہ کہ ان کے والد سابق نائب وزیر دفاع تھے۔
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے 'وزارت دفاع میں مشکوک مالی معاملات' کی تحقیقات کا حکم دیا تھا جس کے دوران انسداد بدعنوانی کمیشن کو دی گئی اطلاعات کی بنا پر شاہی حکم جاری کیا گیا۔
اس حکم نامے کے تحت یوسف بن راقان بن ہندی الاطابی، محمد بن عبد الکریم بن محمد الحسن ، فیصل بن عبد الرحمن بن محمد العجلان اور محمد بن علی بن محمد ال خلیفہ کو بھی تفتیش میں شامل کیا گیا ہے۔
انسداد بدعنوانی کمیشن تمام فوجی افسران اور شہریوں کے خلاف تحقیقات کا عمل مکمل کرے گا۔
شاہی فرمان کے مطابق جنرل سٹاف کے نائب چیف لیفٹیننٹ جنرل مطلق بن سلیم بن مطلق العظیمہ کو شہزادہ فہد کی جگہ مشترکہ افواج کے کمانڈر کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب کی مشترکہ افواج نے سنہ 2015 میں یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا جنھوں نے صنعا سے سعودی حمایت یافتہ حکومت کو اقتدار سے بے دخل کیا تھا۔
اس تنازع کو سعودی عرب اور ایران کے درمیان ایک پراکسی جنگ قرار دیا جاتا ہے۔
سنہ 2017 میں ولی عہد بننے کے بعد شہزادہ محمد بن سلمان نے ملک میں انسداد بدعنوانی مہم کی نگرانی کی ہے اور اس کے تحت سعودی شہر ریاض کے رٹز کارلٹن ہوٹل میں درجنوں شاہی خاندان کے افراد، وزراء اور کاروباری افراد کو نظر بند کیا گیا تھا۔
ان میں سے بیشتر افراد کو حکومت کے رقم واپس کرنے کے معاہدے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے اور سعودی حکومت نے ان معاہدوں کے نتیجے میں 106 بلین ڈالرز سے زائد رقم حاصل کی تھی۔
سعودی حکام نے رٹز کارلٹن کی کارروائی کو 15 مہینوں کے بعد ختم کیا تھا لیکن حکومت کا کہنا تھا کہ ریاست سرکاری ملازمین کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات کا عمل جاری رکھے گی۔
مارچ میں، حکام نے رشوت اور عوامی عہدے کے ناجائز استعمال کے الزام میں فوجی اور سیکیورٹی کے افسران سمیت 300 کے قریب سرکاری اہلکاروں کو گرفتار کیا تھا۔
from سچ ٹی وی اردو - تازہ ترین خبریں https://ift.tt/3lxO6fX
0 comments: