Monday, March 2, 2020

عورت مارچ: لاہور ہائیکورٹ کا پولیس کو مارچ روکنے سے متعلق قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم

عورت مارچ: لاہور ہائیکورٹ کا پولیس کو مارچ روکنے سے متعلق قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم
لاہور ہائیکورٹ میں عورت مارچ کے خلاف کیس کی سماعت، عدالت نے پولیس کو عورت مارچ روکنے سے متعلق قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ میں عورت مارچ کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی، عورت مارچ کے خلاف پولیس اور درخواست گزار نے جواب جمع کروا دیا۔

ڈی آئی جی آپریشنز نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مال روڈ پر احتجاج کی پابندی ہے۔ عورت مارچ کے لئے ایس او پیز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ عورت مارچ کو سکیورٹی کی فراہمی کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

عورت مارچ آرگنائزرز کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ مارچ میں کسی قسم کی نفرت انگیز تقریر نہ کرنے کی ضمانت دیتے ہیں۔

درخواست گزار کا موقف تھا کہ آزادی اظہار رائے قانون کے دائرے سے مشروط ہے، کسی کو مادر پدر آزادی حاصل نہیں عورت مارچ کی آڑ میں بیرونی ایجنڈا مسلط کئے جانے کا اندیشہ ہے۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا مارچ کی آڑ میں کسی کو ملک کے خلاف بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی، عورت مارچ کیخلاف اعتراضات ضلعی حکومت کو جمع کرا دیئے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا قانون اور مذہب کے دائرے میں رہتے ہوئے مارچ پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں،دلائل کے بعد عدالت نے پولیس کو عورت مارچ روکنے سے متعلق قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے عورت مارچ کیس میں اسامہ خاور کی فریق بننے کی درخواست پر بھی فریقین سے جواب طلب کرلیا۔



from سچ ٹی وی اردو - تازہ ترین خبریں https://ift.tt/2wrKeHW

Related Posts:

0 comments:

Popular Posts Khyber Times