
آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے اس درخت کی لمبائی کی تصدیق کے لیے تھری ڈی سکینز کے ساتھ ساتھ ڈرون فلائیٹ بھی لی ہیں۔
یہ طویل الاقامت درخت ملائیشیا کی ریاست سابا کے علاقے دانم ویلی سے دریافت کیا گیا ہے۔ اس درخت کو مینارا کا نام دیا گیا ہے جو کہ ملایا زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی ہیں مینار
مقامی پیما اندنگ جامی جنھوں نے ٹیپ کے ذریعے درخت کی لمبائی ماپی ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک ’خوفناک اور تیز ہوا‘ والی چڑھائی تھی۔
انھوں نے مزید کہا ’ لیکن ایمانداری سے بتاؤں تو اوپر سے نظارہ ناقابل یقین تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس کے علاوہ کیا کہنا ہے لیکن بہت، بہت، بہت حیرت انگیز۔‘
یونیورسٹی آف ناٹنگھم کی ڈاکٹر ڈارین بائیڈ کے مطابق یہ دریافت اہم ہے کیونکہ ’یہ سائنس ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ اس طرح کے درخت موجود ہیں، وہ اس قدر طویل ہیں کہ شاید ہم نے کبھی توقع ہی نہیں کی، ایسے اور درخت بھی موجود ہوں گے جن کو ابھی تک دریافت نہیں کیا جا سکا۔‘
انھوں نے کہا ’اس سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ ہمیں ان درختوں کی خفاظت کرنی ہے۔‘
یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے ڈاکٹرالیگزینڈر شینکن کا کہنا ہے کہ اس دریافت کی خبر سننے کے بعد انھوں نے اس درخت کو دیکھنے کے لیے تین گھنٹوں کا ’صبر آزما‘ سفر کیا۔
انھوں نے کہا ’میرا خیال تھا کہ میں نے بہت سے طویل الاقامت درخت دیکھے ہوئے ہیں لیکن جب میں اس دیو قامت کو دیکھنے پہنچا تو اس کی اونچائی دیکھنے کے لیے میرا سر اوپر سے اوپر جاتا رہا۔‘
from سچ ٹی وی اردو - تازہ ترین خبریں http://bit.ly/2TW4pEc
0 comments: