
ذیلی کمیٹی کے نکات کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے 11 نومبر کو نوازشریف کی تشویشناک صحت کی الگ رپورٹ ذیلی کمیٹی کے سامنے لائی گئی، وزارت داخلہ نے 11 نومبر کو ایمرجنسی صورتحال پر ذیلی کمیٹی کااجلاس 12 نومبر کو وزارت قانون میں صبح 10 بجے طلب کیا، ذیلی کمیٹی نے نیب ،سیکرٹری اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیریئراور میڈیکل بورڈ کے سربرا ہ کوموقف کے لئے طلب کیا۔
نکات کے مطابق درخواست گزار کی جانب سے عطاءاللہ تارڑ اور منوراقبال دگل ایڈووکیٹ ذیلی کمیٹی میں پیش ہوئے، ڈپٹی ڈائریکٹر ای سی ایل نیب قمر شہزاد پھپھرا، سیکرٹری اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیریئر مومن آغاز اور پروفیسر ڈاکٹر محمود ایازذیلی کمیٹی میں پیش ہوئے، ذیلی کمیٹی میں نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان خان ،ایڈیشنل ڈائریکٹر آپریشن نیب عمر رندھاوا پیش ہوئے۔ نکات کے مطابق ای سی ایل سے نام نکالنے کے لئے مخصوص میکنزم نہ ہونے پر نیب کے نمائندوں نے اتفاق کیا، ایسا کوئی میکنزم نہیں ہے جس کے تحت ای سی ایل سے نام نکالا جاسکے، نیب کے مطابق وفاقی حکومت نوازشریف کے باہر جانے کے حوالے سے کوئی ایسا طریقہ کار وضع کرسکتی ہے جب انہیں طلب کیا جائے تو وہ پیش ہوجائیں، تاہم وفاقی حکومت انسانی بنیادوں پر نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے ہدایات جاری کرسکتی ہے۔
نکات کے مطابق نوازشریف کو العزیزیہ سٹیل مل ریفرنس میں 7 سال سزا اور ڈیڑھ ارب روپے جرمانہ ہوا، العزیزیہ اسٹیل مل کیس میں نوازشریف نے سزا کے خلاف جب کہ نیب نے نوازشریف کی سزا بڑھانے کے لئے اسلام آبا دہائی کورٹ میں اپیلیں بھی دائرکی ہوئی ہے، ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کیس میں نوازشریف کو 10 سال سزا اور 80لاکھ پاؤنڈ جرمانہ ہوا، نکات کے مطابق ذیلی کمیٹی میں شورٹی بانڈ لینے کے بعد ون ٹائم پر میشن دینے پر اتفاق ہوا، نوازشریف سے عدالتی جرمانے کے مساوی رقوم کے شورٹی بانڈ لیکر وفاقی کابینہ انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دے سکتی ہے، ریکارڈ نوٹ پر ذیلی کمیٹی کے چیئرمین فروغ نسیم ،وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبراور سیکرٹری داخلہ اعظم سلیمان خان نے دستخط کئے۔
from سچ ٹی وی اردو - تازہ ترین خبریں https://ift.tt/2Kp91AE
0 comments: