
خلا میں جانے والے اس خلائی جہاز میں کوئی خلا باز موجود نہیں لیکن اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو امکانات ہیں کہ امریکی خلائی ادارہ ناسا اسی سال کے آخر تک خلابازوں کو خلا میں بھیجنے کے لیے باقاعدگی سے اس نئے نظام کا استعمال کرنا شروع کر دے گا۔
امریکہ میں خلائی شٹلز کو 2011 میں ریٹائر کرنے کے بعد سے انسانوں کو خلا میں لے کر جانے کے لیے کوئی گاڑی تیار نہیں گئی تھی۔ اس مقصد کے لیے امریکہ نے پیسوں کے عوض ’سوئز‘ نامی روسی خلائی گاڑی استعمال کی۔
سپیس ایکس نے ’فیلکن 9 راکٹ` اور ’ڈریگن کریو کیپسول‘ کو کینیڈی کے تاریخی لانچ پیڈ 39A سے گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق 7:49 پر لانچ کیا۔
11 منٹ بلندی پر جانے کے بعد ’ڈریگن کیپسول‘ کو انٹرنیشنل سپیس سٹیشن کی راہ پر گامزن کر دیا گیا جہاں اس کا اتوار کے روز پہنچنا متوقع ہے۔
چونکہ یہ صرف ایک تجربہ تھا اس بنا پر اس مشن میں خلاباز شامل نہیں تھے مگر ایک ’ٹیسٹ ڈمی‘ یعنی ایک مصنوعی انسانی کردار کو اس راکٹ میں سوار کیا گیا۔
اس مصنوعی کردار کو باقاعدہ خلا میں جانے والا لباس پہنایا گیا ہے اور اس کی گردن، سر اور ریڑھ کی ہڈی کے گرد سینسر لگائے گئے ہیں۔ ان سینسرز کی بدولت سفر کے دوران انسان کے جسم پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں معلومات حاصل ہوسکیں گی جس سے انسان کو مستقبل میں اس سفر میں آسانی ملے گی۔
سپیس ایکس نے اس ڈمی کا نام ’رپلی‘ رکھا ہے خلائی مخلوق کے بارے میں بننے والی فلموں میں سے ایک کردار سگرنی ویور سے متاثر ہو کر رکھا گیا۔
کیلیفورنیا کی کمپنی سپیس ایکس کی 17 سالہ تاریخ میں یہ ایک سنگ میل ہے۔ اس ادارے کا قیام ایلون مسک نے اسی مقصد سے کیا کے وہ انسانوں کو خلا میں لے جا سکیں۔
کمپنی کے ایک نائب صدر ہنس کوئنگسمین نے بتایا کہ ’سپیس ایکس کا بنیادی مقصد انسان کو خلا میں بھیجنے کا ہے۔‘
’ہمارے لیے اس سے بڑھ کے کچھ نہیں اور ہم ناسا کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے ہمیں یہ موقع فراہم کیا۔‘
امریکی سپیس ایجنسی اب بنیادی طور پر خلا میں بھیجنے کے کام کو سپیس ایکس کے سپرد کر رہا ہے۔
اس کے برعکس ماضی میں ناسا انجینئرز کے پاس خلا میں جانے والی سواری کے ڈیزائن سے متعلق تمام فیصلہ سازی کا اختیار تھا اور سارا ہارڈ ویئر بھی ان کی ملکیت میں تھا مگر اب صنعت ایک نئی ڈگر پر چل پڑی ہے۔
ناسا نے اپنی ضروریات کو واضح کیا ہے اور صنعت کو ان پورا اترنے کے لیے کافی چھوٹ دے دی ہے۔
البتہ ایجنسی کے حکام ہر قدم کی نگرانی کریں گے مگر یہ طریقہ کار زیادہ مؤثر، برق رفتار اور کم مہنگا تصور کیا جا رہا ہے۔
ناسا کے سربراہ برائے ہیومن سپیس فلائٹ بل گرسٹن میئر نے کہا کہ ’میں مکمل طور پر امید کرتا ہوں کہ اس تجربے سے ہم کچھ سبق حاصل کر پائیں گے۔‘
’میں اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ سب کچھ امیدوں کے مطابق نہیں ہوگا مگر یہ قابل قبول ہوگا کیونکہ ہم یہی کرنا چاہتے تھے۔‘
مدار پر پہنچنے کے بعد ڈریگن کیپسول شِپ پر موجود ’تھرسٹرز‘ کی بدولت سٹیشن کی جانب اپنا رستہ خود بنائے گا۔
اس تجربے اور ایک عام کارگو کی پرواز کے درمیان بنیادی فرق انٹرنیشنل سپیس سٹیشن تک رسائی کے لائحہ عمل کا ہے۔
انٹرنیشنل سپیس سٹیشن کے خلاباز اس کیبسول کی نقل و حرکت کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
ناسا کے انٹرنیشنل سپیس سٹیشن پروگرام کے مینیجر کرک شائرمین کا کہنا تھا کہ ’ہمیں آپ نے یہ کہتے سنا ہوگا کہ یہ ایک تجرباتی پرواز ہے جو کہ یقینی طور پر ہے البتہ ہم اسے ایک انتہائی اہم فضائی مشن بھی تصور کرتے ہیں۔‘
’انٹرنیشنل سپیس سٹیشن پر اس وقت تین افراد موجود ہیں اور اس مشن کی وہاں تک رسائی پہلی بار ہوئی ہے اسے کامیاب ہونا چاہیے بلکہ اس کو کامیاب ہونا پڑے گا۔‘
from سچ ٹی وی اردو - تازہ ترین خبریں https://ift.tt/2NFYfGw
0 comments: