
فرانسیسی خبررساں ادارے ’ اے ایف پی‘ کے مطابق دونوں رہنما 27 فروری کو شمالی کوریا کے جوہری پروگرام سے متعلق بات چیت کے لیے ملاقات کریں گے۔
شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان بذریعہ خصوصی ٹرین 4 ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرکے ڈھائی روز میں ویتنام پہنچے جہاں انہیں فوج کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
مقامی عہدیدار ہوانگ تھی نے کہا کہ وہ 1964 کے بعد ویتنام کا دورہ کرنے والے پہلے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ کی آمد کا انتظار کیا۔ انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ میں بہت زیادہ پرجوش تھی جب ہمیں ٹرین کی آمد سے متعلق بتایا گیا‘۔ ہوانگ تھی نے کہا کہ ’ ہم نے انہیں بہت دور سے دیکھا، مجھے بہت خوشی ہوئی جسے بیان کرنا مشکل ہے‘۔
خیال رہے کہ اس سے قبل شمالی کوریا کے موجودہ سربراہ کے دادا کم ٹو سنگ نے 1964 میں ویتنام کا دورہ کیا تھا۔ ویتنام آمد پر ہنوئی اوپیرا ہاؤس کے قریب عوام کی ایک بڑی تعداد نے کم جونگ ان کا پرجوش استقبال کیا جس کے بعد وہ میلیا ہوٹل روانہ ہوگئے جہاں وہ رواں ہفتے قیام کریں گے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج شب خصوصی طیارے ایئر فورس ون سے ہنوئی پہنچے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ہنوئی پہنچ کر صحافیوں سے کوئی بات چیت نہیں کی تاہم ویتنام آمد سے قبل ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا تھا کہ ’وہ بہت تخلیقی دوسرے اجلاس کا انتظار کررہے ہیں‘۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں مزید کہا تھا کہ ’جوہری ہتھیاروں کا استعمال مکمل طور پر ترک کرکے شمالی کوریا بہت تیزی سے معاشی طاقت بن جائے گا‘۔
امریکی صدر نے لکھا تھا کہ ’ چیئرمین کم جونگ ان عقلمندانہ فیصلہ لیں گے‘۔
گزشتہ برس جون میں سنگاپور میں ابتدائی ملاقات کے بعد جوہری ہتھیاروں کا استعمال ترک کرنے متعلق صرف بیان آنے کے بعد تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دوسری ملاقات میں پیانگ یانگ کے ہتھیار ترک کرنے سے متعلق ٹھوس اقدامات سامنے آنے چاہئیں۔
تاہم اکثر افراد نے سنگاپور میں ہونے والے اجلاس کو سیاسی ڈرامہ قرار دیا تھا جو جوہری ہتھیاروں کا استعمال ترک کرنے میں کسی ٹھوس اقدامات لینے میں ناکامی ہوئی تھی اور ہنوئی اجلاس میں لازمی طور پر کچھ بہتر اقدامات لینے پر اصرار بھی کیا ہے۔
امریکی آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن سے تعلق رکھنے والے کیلسے ڈیون پورٹ نے کہا کہ ’ شمالی کوریا کے ساتھ سفارتی پیش رفت کے دروازے غیریقینی طور پر کھلے نہیں رہیں گے، اس لیے دوسرے اجلاس میں ڈرامائی صورتحال پر توجہ مرکوز کی جائے‘۔
ہنوئی میں منعقد ہونے والے اجلاس سے متعلق ٹھوس تفصیلات تاحال موجود نہیں لیکن وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں قریبی مشیروں کے ساتھ 27 فروری کو ایک ساتھ رات کا کھانا کھائیں گے۔
خیال رہے کہ گزشتہ برس 12 جون کو سنگاپور کے ایک شاندار ہوٹل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ ان نے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے بعد شمالی کوریا کے 70ویں یوم آزادی کے موقع پر جوہری تنصیبات کی نمائش سے گریز کیا گیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان، جنہوں نے 2017 ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری اور دھمکیاں دے کر گزارا تھا، کے درمیان دوسری ملاقات کا امکان آئندہ برس ظاہر کیا جارہا ہے۔ تاہم شمالی کوریا کی جانب سے جوہری اور بیلسٹک میزائل کی تخفیف کے کے چند واضح اقدامات کے بعد امریکی صدر کو تنقید کا سامنا ہے۔
بعد ازاں گزشتہ برس دسمبر میں شمالی کوریا نے امریکی کی جانب سے عائد کی گئی حالیہ پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ واشنگٹن کے اقدامات سے جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہوجائے گا۔
from سچ ٹی وی اردو - تازہ ترین خبریں https://ift.tt/2IFDR9K
0 comments: