
فروخت کے دبائو اور پرافٹ ٹیکنگ کے باعث کاروبار کا آغاز منفی زون میں ہوا، تاہم بعد ازاں حکومتی مالیاتی اداروں مقامی بروکریج ہائوس سمیت دیگرانسٹی ٹیوشنز کی جانب سے توانائی، فوڈز، بینکنگ اور کیمیکلزسمیت دیگرمنافع بخش سیکٹرمیں خریداری کے باعث کے مندی کے اثرات زائل ہوگئے اور کے ایس ای 100 انڈیکس 40465 پوائنٹس کی بلند سطح پر ریکارڈ کیا گیا تاہم اتارچڑھائو کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس مذکورہ سطح پر برقرار نہ رہ سکا۔
مارکیٹ کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 155.31 پوائنٹس اضافے سے 40420.09 پوائنٹس پر بند ہوا۔ مجموعی طور پر 334 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 183 کمپنیوں کے حصص کے بھاؤمیں اضافہ، 134 کمپنیوں کے حصص کے بھاؤ میں کمی جبکہ 17 کمپنیوں کے حصص کے بھاؤ میں استحکام رہا۔ سرمایہ کاری مالیت میں 22 ارب 57 کروڑ 20 لاکھ 55 ہزار 572 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ سرمایہ کاری کی مجموعی مالیت بڑھ کر 80 کھرب 74 ارب 20 کروڑ 36 لاکھ 16 ہزار 61 روپے ہو گئی۔
پیر کو مجموعی طور پر 12 کروڑ 60 لاکھ 6 ہزار 310 شیئرز کا کاروبار ہوا، جوجمعہکی نسبت 3 کروڑ 1 لاکھ 10 ہزار 710 شیئرز کم ہیں۔ قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے حساب سے انڈس موٹرز کمپنی کے حصص سرفہرست رہے جس کے حصص کی قیمت 19.22 روپے اضافے سے 1226.40 روپے اور سیمنز پاک کے حصص کی قیمت 15.97 روپے اضافے سے 826.00 روپے پر بند ہوئی۔ یونی لیور فوڈزکے حصص میں کمی ریکارڈ کی گئی جس کے حصص کی قیمت 62.50 روپے کمی سے 7000.00 روپے اور ہینوپاک موٹرز کے حصص کی قیمت 22.45 روپے کمی سے 461.08 روپے ہو گئی۔
پی آئی اے سی (ای) کی سرگرمیاں 1 کروڑ 52 لاکھ 43 ہزار 500 شیئرز کے ساتھ سرفہرست رہیں، جس کے شیئرز کی قیمت 69 پیسے اضافے سے 7.27 روپے پر جبکہ ٹی آر جی پاک لمیٹڈ کی سرگرمیاں 79 لاکھ 41 ہزار 500 شیئرز کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی، جس کے شیئرز کی قیمت 22 پیسے اضافے سے 26.82 روپے ہو گئی۔
کے ایس ای 30 انڈیکس 59.95 پوائنٹس اضافہ سے 19406.52 پوائنٹس، کے ایم آئی 30 انڈیکس 397.35 پوائنٹس اضافے سے 67385.26 پوائنٹس جبکہ کے ایس ای آل شیئر انڈیکس 95.15 پوائنٹس اضافے سے 29462.82 پوائنٹس پر بند ہوا۔
from سچ ٹی وی اردو - تازہ ترین خبریں http://bit.ly/2MK7Iwp
0 comments: