Thursday, June 18, 2020

ایم کیو ایم پاکستان نے نئی حلقہ بندیوں کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا

سندھ ہائیکورٹ
متحدہ قومی موومنٹ نے صوبے کے مختلف شہروں میں نئی حلقہ بندیوں کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا، درخواست ایم کیو ایم رہنما کنور نوید جمیل، عامرخان اور وسیم اختر نے دائر کی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پیپلز پارٹی نے من پسندحلقہ بندیاں کیں ہیں، قواعد و ضوابط کا خیال نہیں رکھا گیا اور شہری کو دیہی اور دیہی کو شہری علاقوں میں شامل کیا گیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ پیپلز پارٹی نے اردو بولنے والوں کے علاقوں کو محدود کردیا ہے، عدالت سے اپیل ہے کہ نئی حلقہ بندیاں آئین کی کھلی خلاف ورزی ہیں اس لئے انہیں منسوخ کیا جائے۔

اس حوالے سے متحدہ رہنما عامر خان کا کہنا ہے کہ صوبائی الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک خط جاری ہوا، جس میں حلقہ بندیوں کیلئے کمیٹیاں تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا، کمیٹی میں ڈپٹی کمشنر کو شامل کیا گیا ہے۔

رہنماایم کیوایم کا کہنا ہے کہ حلقہ بندیوں کا مکمل اختیار الیکشن کمیشن کو ہے، ستمبر میں بلدیاتی مدت ختم ہونے جا رہی ہے، حلقہ بندیوں پر ایم کیو ایم کو پہلے ہی تحفظات ہیں۔

اس کے علاوہ مردم شماری میں بھی دھاندلیاں کی گئی ہیں، عامر خان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت بلدیاتی اختیارات رکھ کر بیٹھی ہے، پیپلز پارٹی وڈیرانہ سوچ رکھتی ہے۔

اس کے علاوہ متحدہ کے رہنما کنور نوید جمیل کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کا نیا نوٹیفکیشن غیرقانونی ہے، ایم کیو ایم نے 2013 میں بھی درخواست دائر کی تھی، ہائیکورٹ نے ایم کیو ایم کے مؤقف کے حق میں فیصلہ دیا، عدالتی حکم ہے صوبائی حکومت کے ایڈمنسٹریٹر کو شامل نہیں کیا جاسکتا۔



from سچ ٹی وی اردو - تازہ ترین خبریں https://ift.tt/2ALWplC

Related Posts:

0 comments:

Popular Posts Khyber Times