
چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کهو سہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نواز شریف کی درخواست پر سماعت کر رہا ہے۔
نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی اور نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کمرہ عدالت میں موجود ہیں، مسلم لیگ (ن) کے رہنما سردار ایاز صادق، راجا ظفرالحق، رانا ثنااللہ، احسن اقبال، مریم اورنگ زیب بهی کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔
درخواست پر سماعت شروع ہوئی تو سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے نواز شریف کے معالج ڈاکٹر لارنس کے خط کا حوالہ دیا جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا ہمیں یہ بتائیں کہ ان کی جانب سے لکھے گئے خط کی کیا قانونی حیثیت ہے؟۔
چیف جسٹس نے کہا ڈاکٹر لارنس کا یہ خط عدالت کے نام نہیں بلکہ عدنان نامی شخص کے نام لکھا گیا ہے، اس خط کے مصدقہ ہونے کا ثبوت نہیں، یہ خط ایک پرائیویٹ شخص نے دوسرے پرائیویٹ شخص کو لکھا ہے، یہ خط شواہد کے طور پر کیسے پیش ہوسکتا ہے۔
خواجہ حارث نے کہا میں اس خط پر انحصار نہیں کر رہا، نواز شریف کی صحت خراب ہونے پر ڈاکٹرز نے معائنہ کیا۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا آپ نے میرٹ کی بنیاد پر دائر پٹیشن واپس لے لی تھی جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف کی صحت کا معاملہ بعد میں سامنے آیا اس لیے درخواست واپس لی گئی، سابق وزیراعظم کی صحت کا جائزہ لینے کیلئے 5 میڈیکل بورڈ بنے اور پانچوں بورڈز نے اسپتال داخل کرانے کی سفارش کی۔
خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 30 جنوری کو پی آئی سی بورڈ نے بڑے میڈیکل بورڈ بنانے کی تجویز دی اور ایک سے زائد بیماریوں کے علاج کی سہولت دینے والے اسپتال میں داخلے کا کہا۔
from سچ ٹی وی اردو - تازہ ترین خبریں https://ift.tt/2YnPu9m
0 comments: