
مراکشی حکام نے يہ انکشاف کيا ہے کہ اسکنيڈينيويئن ممالک کی دو نوجوان لڑکيوں کے مراکش ميں حاليہ قتل ميں مبينہ طور پر ايک جنگجو تنظيم ملوث ہے۔ اس بارے ميں اعلان بدھ کے روز کيا گيا۔ استغاثہ کی جانب سے جاری کردہ بيان ميں کہا گيا ہے کہ قتل کے شبے ميں گرفتار کيے جانے والے ايک مشتبہ ملزم کا تعلق ايک دہشت گرد تنظيم سے ہے۔ حکام نے بتايا کہ وہ تين مزيد تين مشتبہ ملزمان کے تعاقب ميں ہيں۔
مراکش اسکنيڈينيويئن ممالک سے تعلق رکھنے والی دو لڑکيوں کی لاشيں اس ہفتے پير کے روز ملی تھيں۔ استغاثہ کے مطابق پوليس ايک ايسی ويڈيو کے مصدقہ ہونے کے سلسلے ميں بھی تفتيش کر رہی ہے، جس ميں ايک لڑکی کو قتل کرتے ہوئے دکھايا گيا ہے۔ اس ويڈيو کو بعد ازاں سوشل ميڈيا پر بھی جاری کيا گيا تھا۔ ويڈيو ميں نيم برہنہ حالت ميں ايک مقتول لڑکی چيختی چلاتی دکھائی ديتی ہے اور پھر ايک حملہ آور اسے قابو ميں کرتا ہے اور دوسرا اس کا گلا کاٹ ديتا ہے۔ يہ ويڈيو ايک بظاہر ايک خيمے کے اندر اور باہر فلمائی گئی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ايک خاتون کی لاش کيمپ کے اندر سے برآمد ہوئی تھی جبکہ ايک کی باہر سے۔ مراکش کے پبلک ٹيلی وژن چينل ’2M‘ نے ايک سکيورٹی ذريعے کا حوالہ ديتے ہوئے رپورٹ کيا ہے کہ قتل کی يہ واردات دہشت گردانہ کارروائی ہے۔ مقامی ميڈيا پر نشر کردہ رپورٹوں کے مطابق مشتبہ ملزمان کا تعلق داعش سے ہے۔
ديگر شمالی افريقی ممالک کی طرح مراکش ميں دہشت گردانہ کارروائياں اتنی عام نہيں۔ اس کی ايک وجہ تين برس قبل وہاں سينٹرل بيورو فار جوڈيشل انويسٹيگيشنز کا قيام ہے، جس نے اب تک جنگجوؤں کے ستاون سيل بند کرائے ہيں۔ عام طور پر مراکش کو سياحوں کے ليے محفوظ مانا جاتا ہے، گو کہ خواتين سياحوں کو ہراساں کيے جانے کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہيں۔
from سچ ٹی وی اردو - تازہ ترین خبریں https://ift.tt/2CpTcpP
0 comments: